Directory Image
This website uses cookies to improve user experience. By using our website you consent to all cookies in accordance with our Privacy Policy.

بیانُ القرآن میں سورۃُ لقمان کی آیات 20 تا 30 کا اردو ترجمہ و تفسیر پڑھیں اور ان آیات میں بیان کردہ

Author: Tanzeem Digital
by Tanzeem Digital
Posted: Oct 16, 2026

بیانُ القُرآن

سُورۃُ لُقمٰن

آیات ۲۰تا ۳۰

{اَلَمۡ تَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ وَ اَسۡبَغَ عَلَیۡکُمۡ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّ بَاطِنَۃً ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّ لَا ہُدًی وَّ لَا کِتٰبٍ مُّنِیۡرٍ ﴿۲۰﴾وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ قَالُوۡا بَلۡ نَتَّبِعُ مَا وَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَ لَوۡ کَانَ الشَّیۡطٰنُ یَدۡعُوۡہُمۡ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیۡرِ ﴿۲۱﴾وَ مَنۡ یُّسۡلِمۡ وَجۡہَہٗۤ اِلَی اللّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ عَاقِبَۃُ الۡاُمُوۡرِ ﴿۲۲﴾وَ مَنۡ کَفَرَ فَلَا یَحۡزُنۡکَ کُفۡرُہٗ ؕ اِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ فَنُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۲۳﴾نُمَتِّعُہُمۡ قَلِیۡلًا ثُمَّ نَضۡطَرُّہُمۡ اِلٰی عَذَابٍ غَلِیۡظٍ ﴿۲۴﴾وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۵﴾لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۲۶﴾وَ لَوۡ اَنَّ مَا فِی الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَۃٍ اَقۡلَامٌ وَّ الۡبَحۡرُ یَمُدُّہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ سَبۡعَۃُ اَبۡحُرٍ مَّا نَفِدَتۡ کَلِمٰتُ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۷﴾مَا خَلۡقُکُمۡ وَ لَا بَعۡثُکُمۡ اِلَّا کَنَفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۲۸﴾اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ۫ کُلٌّ یَّجۡرِیۡۤ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۲۹﴾ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِ الۡبَاطِلُ ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡکَبِیۡرُ ﴿٪۳۰﴾}

آیت۲۰ {اَلَمۡ تَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ}

  • p>
تم لوگ غور کرو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے آ سمان و زمین کی ساری مخلوق کو تمہاری خدمت کرنے اور تمہیں سہولیات بہم پہنچانے پر مامور کر دیا ہے۔مثلاً سورج کو دیکھو جو تمہارے لیے تمازت اور روشنی مہیا کرتا ہے۔ اسی سے ہواؤں اور بارشوں کا نظام ترتیب پاتا ہے اور زمین پر فصلوں اور پھلوں کی پرورش ممکن ہوتی ہے۔ زمین کو دیکھو جسے اللہ تعالیٰ نے ایک بچھونے کی طرح بچھا کر تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے اور یوں تمہاری تمام ضرورتیں پوری کرنے کا اہتمام کیا ہے۔

{وَ اَسۡبَغَ عَلَیۡکُمۡ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّ بَاطِنَۃً ؕ} ’’اور اُس نے اپنی ظاہری و باطنی نعمتیں تم پر مکمل کر دی ہیں۔‘‘

اللہ کی ان نعمتوں سے ہم دن رات مستفیض ہو رہے ہیں۔ ان میں سے کئی نعمتیں تو ایسی ہیں جنہیں ہم دیکھتے بھی ہیں اور محسوس بھی کرتے ہیں مگر اس کی بے شمار نعمتوں کے بارے میں ہمیں کبھی احساس بھی نہیں ہوا۔ مثلاً ہمارے وجود کے اندر اللہ کی قدرت سے کیسے کیسے نظام خود بخود مصروفِ عمل ہیں‘ لیکن عام طور پر ہمیں ان کے بارے میں احساس نہیںہوتا۔

{وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّ لَا ہُدًی وَّ لَا کِتٰبٍ مُّنِیۡرٍ ﴿۲۰﴾} ’’اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی علم ہو‘ یا کوئی ہدایت ہو‘ یا کوئی روشن کتاب ہو۔‘‘

اس سے پہلے یہ مضمون سورۃ الحج کی آیت ۳ میں بھی بالکل انہی الفاظ میں آ چکا ہے۔ ایسے لوگ اللہ کی ذات‘ اُس کی آیات اور اُس کے احکام کے بارے میں طرح طرح کے سوالات اٹھاتے ہیں‘ منفی انداز میں بحث وتمحیص کرتے ہیں ‘لیکن اس کے بارے میں ان کے پاس نہ تو کوئی علمی دلیل ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی الہامی ثبوت۔

آیت ۲۱ {وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ قَالُوۡا بَلۡ نَتَّبِعُ مَا وَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا ؕ}

  • p>
یہ سوچ آج بھی زندہ ہے۔ آج بھی ہر معاشرے میں کلچر کے احیاء ‘ لوک ورثے کی حفاظت اور قومی روایات کے پروان چڑھانے کے نام پر کروڑوں روپے کے وسائل ضائع کر دیے جاتے ہیں۔

{اَوَ لَوۡ کَانَ الشَّیۡطٰنُ یَدۡعُوۡہُمۡ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیۡرِ ﴿۲۱﴾} ’’خواہ انہیں شیطان بلا رہا ہو جہنم کے عذاب کی طرف!‘'

اپنے آباء و اَجداد کے غلط طریقوں سے چمٹے رہنے کی یہ سوچ دراصل شیطانی گمراہی کے سبب ہے ۔ چنانچہ ایسی باتیں کر کے گویا وہ لوگ شیطان کی دعوت پر لبیک کہہ رہے ہیں اور شیطان کی دعوت تو گویا جہنم کے عذاب کی دعوت ہے۔

آیت ۲۲ {وَ مَنۡ یُّسۡلِمۡ وَجۡہَہٗۤ اِلَی اللّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ}

  • p>
{فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ؕ} ’’تو اُس نے تھام لیا مضبوط حلقے کو۔‘‘

اَلْـعُرْوَۃُ الْوُثْقٰی (مضبوط ُکنڈا یا حلقہ) سے مراد اللہ کا تعلق اور اس کا سہارا ہے۔ اس مضبوط سہارے کو تھامنے کا ذکر اس سے پہلے سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۵۶ میں اس طرح آیاہے:

{فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ٭ لَا انۡفِصَامَ لَہَا ؕ} ’’اور جو کوئی انکار کرے طاغوت کا اور ایمان لائے اللہ پر اُس نے تو ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔‘‘

{وَ اِلَی اللّٰہِ عَاقِبَۃُ الۡاُمُوۡرِ ﴿۲۲﴾} ’’اور تمام معاملات کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

آیت ۲۳ {وَ مَنۡ کَفَرَ فَلَا یَحۡزُنۡکَ کُفۡرُہٗ ؕ}

  • p>
{اِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ فَنُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ؕ} ’’ہماری ہی طرف ان سب کو لوٹنا ہے‘ پھر ہم انہیں آگاہ کر دیں گے ان کاموں کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘

{اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۲۳﴾} ’’ یقینا اللہ خوب جاننے والا ہے اسے بھی جو سینوں میں چھپا ہوا ہے۔‘‘

آیت ۲۴ {نُمَتِّعُہُمۡ قَلِیۡلًا ثُمَّ نَضۡطَرُّہُمۡ اِلٰی عَذَابٍ غَلِیۡظٍ ﴿۲۴﴾}

  • p>
ہم نے انہیں دُنیوی زندگی کی صورت میں تھوڑی سی مہلت دی ہے‘جس میں وہ دنیا کے سازوسامان کو کام میں لاتے ہوئے مزے لوٹ لیں۔ پھر ہم انہیں پکڑ کر بہت سخت عذاب کی طرف دھکیل دیں گے۔

آیت ۲۵ {وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ}

  • p>
{قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۵﴾} ’’آپؐ کہیے کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ‘لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔‘‘

آیت ۲۶ {لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ}

  • p>
لفظ اللہ کے ساتھ یہاں ’’لامِ تملیک‘‘ آیا ہے۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی ملکیت ہے۔

{اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۲۶﴾} ’’یقینا اللہ ہی غنی ہے‘ بہت خوبیوں والا۔‘‘

وہ بے نیاز ہے‘ اسے کوئی احتیاج نہیں‘ وہ خود اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔

آیت ۲۷ {وَ لَوۡ اَنَّ مَا فِی الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَۃٍ اَقۡلَامٌ}

  • p>
قرآن مجید کے اس اسلوب کی طرف پہلے بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ اہم مضامین کم از کم دو مرتبہ ضرور دہرائے جاتے ہیں۔چنانچہ یہی مضمون سورۃ الکہف میں اس طرح بیان ہوا ہے:

{قُلۡ لَّوۡ کَانَ الۡبَحۡرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیۡ لَنَفِدَ الۡبَحۡرُ قَبۡلَ اَنۡ تَنۡفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیۡ وَ لَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِہٖ مَدَدًا ﴿۱۰۹﴾} ’’(اے نبیﷺ!) آپ کہیے کہ اگر سمندر سیاہی بن جائے میرے رب کی باتوں (کے لکھنے) کے لیے تو یقینا سمندر ختم ہو جائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں اگرچہ ہم اسی کی طرح اور (سمندر) بھی مدد کے لیے لے آئیں‘‘۔ سورۃ الکہف کی اس آیت میں لکھنے کے حوالے سے صرف سیاہی کا ذکر ہے جبکہ یہاں پر سیاہی کے ساتھ قلم کا ذکر بھی ہوا ہے۔

{وَّ الۡبَحۡرُ یَمُدُّہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ سَبۡعَۃُ اَبۡحُرٍ} ’’اور سمندر (سیاہی بن جائے) اس کے بعداس کو مزید سات سمندر سیاہی مہیا کریں‘‘

یہاں پر الْبَحْر کے بعد مِدَاد (سیاہی) کا لفظ محذوف ہے۔ بہر حال مفہوم واضح ہے کہ اگر زمین پر موجود سب کے سب درخت قلمیں بن جائیں اور سمندر سیاہی بن جائے اور پھر مزید سات سمندروں کا پانی بھی سیاہی بن کر اس میں شامل ہو جائے تب بھی :

{مَّا نَفِدَتۡ کَلِمٰتُ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۷﴾} ’’اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ یقینا اللہ زبردست ہے ‘کمال حکمت والا۔‘‘

قبل ازیں کئی بار ذکر ہو چکا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کے کلمہ ’’کُن‘‘کا ظہور ہے ۔ اس لحاظ سے اللہ کی تمام مخلوقات گویا ’’کلمات اللہ‘‘ ہیں جن کا شمار ممکن ہی نہیں۔ پرانے زمانے کے مقابلے میں آج کا انسان اس کائنات کی وسعت کے بارے میں بہتر طورپرجانتا ہے۔ آج کے سائنسدان اربوں نوری سالوں کی وسعت تک کائنات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں مگر اس سب کچھ کے باوجود بھی وہ کائنات کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کی وسعت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ چنانچہ جس کائنات کی وسعت کا اندازہ لگانا کسی کے بس کی بات نہیں‘ اس میں موجود مخلوق یعنی اللہ کے کلمات و صفات کو احاطۂ تحریر میں لانا کسی کے لیے کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔

آیت ۲۸ {مَا خَلۡقُکُمۡ وَ لَا بَعۡثُکُمۡ اِلَّا کَنَفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ ؕ}

  • p>
پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی وسعت و عظمت کا تذکرہ تھا۔ اب اس وسیع و عریض کائنات کے انتظام و انصرام اوررنگا رنگ مخلوق کے معاملات کی نگرانی کا ذکر ہے کہ ان تمام امور کی نگہداشت اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔ جیسے آیت الکرسی (سورۃ البقرۃ) میں ارشاد ہوا:

{وَ لَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ ﴿۲۵۵﴾} ’’اور اُس پر گراں نہیں گزرتی ان دونوں (زمین و آسمان) کی حفاظت‘ اور وہ بلند و بالا ہے‘ بڑی عظمت والا۔‘‘

{اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۲۸﴾} ’’یقینا اللہ سب کچھ سننے والا‘ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے۔‘‘

آیت ۲۹ {اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ}

  • p>
اس مفہوم کے اعتبار سے اس کی مثال تسبیح کے دانوں کی سی ہے ‘یعنی قدرتِ الٰہی سے دن اور رات کی ترتیب ایک ڈوری میں پروئے گئے سیاہ اور سفید رنگ کے دانوں کی سی ہے کہ ایک سیاہ اور ایک سفید دانہ باری باری چلے آ رہے ہیں۔ ان الفاظ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں۔ یعنی دن جب گھٹتا ہے تو رات اس کے کچھ حصے پر قابض ہو جاتی ہے گویا وہ اس میں داخل ہو جاتی ہے۔ اور اسی طرح جب رات گھٹتی ہے تو اس کے کچھ حصے پر دن قبضہ (encroachment) کر لیتا ہے۔

{وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ۫ کُلٌّ یَّجۡرِیۡۤ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۲۹﴾} ’’اور اُس نے مسخر کر دیا ہے سورج اور چاند کو۔ یہ سب کے سب چل رہے ہیں ایک وقت معین تک کے لیے‘ اور یہ کہ اللہ باخبر ہے اُس سے جو تم کر رہے ہو۔‘‘

آیت ۳۰ {ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِ الۡبَاطِلُ ۙ}

  • p>
لغوی اعتبار سے ہر وہ چیز ’’باطل‘‘ ہے جو اگرچہ نظر تو آ رہی ہو مگر اس کا وجود حقیقی نہ ہو۔ جیسے ’’سراب‘‘ کہ دور سے دیکھنے پر پانی نظر آتا ہے مگر اصل میں وہ پانی نہیں ہوتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے سوا جس کسی کو بھی کوئی معبود سمجھ کر پکارتا ہے وہ محض دھوکہ اور سراب ہے ۔

{وَ اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡکَبِیۡرُ ﴿٪۳۰﴾} ’’اور یقینا اللہ ہی سب سے بلند و بالا اور عظمت والا ہے۔‘

About the Author

بیان القرآن میں سورۃ لقمان کی آیات 20 تا 30 کا اردو ترجمہ و تفسیر پڑھیں۔ اللہ کی ظاہری و باطنی نعمتوں، آباء پرستی کی مذمت، عروۃ الوثقیٰ اور کلماتِ الٰہی کی وسعت کے مضامین جانیں۔

Rate this Article
Leave a Comment
Author Thumbnail
I Agree:
Comment 
Pictures
Author: Tanzeem Digital

Tanzeem Digital

Member since: Oct 13, 2026
Published articles: 1